مریضوں کے لیے رہنمائی
BMAC کیا ہے؟ گھٹنوں کے درد کا علاج اور نئی طبی رہنمائی
Ghutno ka dard aur ghutno ke dard ka ilaj — اردو میں جانیں کہ BMAC کیا ہے، ہڈی کے گودے سے تیار شدہ یہ طریقہ کار کیسے کام کرتا ہے، اس کے شواہد کی حدود کیا ہیں اور کون سے مریض اس کے لیے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔

اکثر مریض جو گھٹنوں کے پرانے درد اور گٹھیا (osteoarthritis) میں مبتلا ہوتے ہیں، وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا بغیر بڑے آپریشن کے گھٹنوں کے درد کا علاج ممکن ہے۔ جدید آرتھوپیڈک ادویات میں BMAC یعنی بون میرو ایسپریٹ کنسنٹریٹ (Bone Marrow Aspirate Concentrate) ایک ایسا طریقہ علاج ہے جس میں مریض کی اپنی ہڈی کے گودے سے خلیات حاصل کر کے گھٹنے کے جوڑ میں داخل کیے جاتے ہیں۔ اس کا مقصد درد میں کمی لانا اور جوڑ کی تبدیلی کے آپریشن میں تاخیر کرنا ہے۔
لاہور میں کنسلٹنٹ آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر فاروق اعظم خان نے BMAC علاج لاہور کا پہلا باقاعدہ پروگرام شروع کیا ہے جو بین الاقوامی طبی پروٹوکولز کے مطابق مریضوں کو جوڑ بچانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ معلوماتی مضمون آسان اردو میں یہ سمجھاتا ہے کہ BMAC کیا ہے، یہ کس طرح کام کرتا ہے، اور اس کی طبی حدود کیا ہیں۔
Ghutno Ke Dard Ka Ilaj: کون سے اختیارات دستیاب ہیں؟
بہت سے مریض انٹرنیٹ پر "ghutno ka dard" یا "ghutno ke dard ka ilaj" لکھ کر تلاش کرتے ہیں۔ گھٹنوں کے درد کے علاج کے کئی درجے ہوتے ہیں: وزن میں کمی اور ورزش، درد کم کرنے والی ادویات، جوڑ میں لگائے جانے والے انجیکشن جن میں PRP اور BMAC شامل ہیں، اور آخر میں جوڑ کی تبدیلی کا آپریشن۔ ہر مریض کے لیے مناسب درجہ مختلف ہوتا ہے، اور یہ فیصلہ معائنے اور ایکسرے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔
BMAC کیا ہے اور یہ جوڑ میں کیسے کام کرتا ہے؟
BMAC ایک خود کار یعنی آٹولوگس (autologous) طریقہ ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس میں استعمال ہونے والا مواد مکمل طور پر مریض کے اپنے جسم سے لیا جاتا ہے۔ عام طور پر کولہے کی پچھلی ہڈی سے گودا حاصل کیا جاتا ہے اور پھر ایک مخصوص مشین (centrifuge) کے ذریعے اسے گھما کر مرتکز خلیات الگ کیے جاتے ہیں۔
اس مرکب میں میسن کائمل اسٹیم سیلز (MSCs)، پلیٹ لیٹس اور قدرتی ورم کش کیمیائی مادے شامل ہوتے ہیں۔ جب یہ خلیات گھٹنے کے اندر داخل کیے جاتے ہیں تو یہ جوڑ کی اندرونی سوزش اور جھلی کی جلن کو کم کرتے ہیں، جس سے مریض کے روزمرہ چلنے پھرنے اور حرکات میں بہتری آتی ہے۔ کیونکہ یہ مریض کا اپنا مادہ ہوتا ہے، اس لیے جسم کی طرف سے اسے رد کیے جانے کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔
گھٹنوں کے درد کا علاج: BMAC کے تین بنیادی مراحل
یہ طریقہ علاج ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں مکمل جراثیم سے پاک ماحول میں ایک ہی دن میں مکمل کیا جاتا ہے:
- پہلا مرحلہ (گودا نکالنا): لوکل اینستھیزیا یعنی بے ہوشی کے ٹیکے کے ذریعے کولہے کی ہڈی کے مقام کو سن کیا جاتا ہے اور ایک باریک سوئی کی مدد سے گودا حاصل کیا جاتا ہے۔
- دوسرا مرحلہ (خلیات الگ کرنا): حاصل شدہ گودے کو آپریشن تھیٹر کے اندر ہی خاص مشین میں گھما کر شفا بخش خلیات، اسٹیم سیلز اور پلیٹ لیٹس کو الگ اور مرتکز کیا جاتا ہے۔
- تیسرا مرحلہ (جوڑ میں ٹیکہ لگانا): مرتکز BMAC کو انتہائی مہارت سے گھٹنے کے جوڑ کے اندر داخل کیا جاتا ہے تاکہ وہ سوزش والے مقام پر براہ راست اثر کر سکے۔
سائنسی شواہد اور طبی تحقیقات کیا بتاتی ہیں؟
بین الاقوامی طبی جرائد میں شائع ہونے والی تحقیقات کے مطابق، BMAC درمیانے درجے کے گٹھیا میں درد کو کم کرنے اور جوڑ کو فعال رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ سائنٹفک رپورٹس (Scientific Reports 2024) میں شائع ہونے والی 4 سالہ تحقیق (Pabinger et al.) میں دیکھا گیا کہ گٹھیا کے مریضوں کے درد کے اسکور (WOMAC) میں واضح بہتری آئی اور 4 سال کے عرصے میں زیر مطالعہ مریضوں میں سے کسی کو فوری طور پر گھٹنا تبدیل کروانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
تاہم، مریضوں کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس تحقیق کی کچھ حدود تھیں، جیسے اس میں تقابل کے لیے بغیر دوا والا گروپ شامل نہیں تھا۔ بین الاقوامی سائنسی جائزے (Medicina 2025) کے مطابق، ایک تجرباتی تحقیق میں نمکین پانی کے ٹیکے اور BMAC کے مابین درد کے خاتمے میں کوئی خاص فرق نہیں دیکھا گیا۔
طبی حدود اور حقیقت پسندانہ توقعات
ڈاکٹر فاروق اعظم خان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مریضوں کو ہمیشہ سچائی سے آگاہ رکھا جائے۔ BMAC کوئی جادوئی حل یا مکمل نئی ہڈی اگانے کا ذریعہ نہیں ہے۔ سائنسی حقیقت درج ذیل ہے:
- کارٹلیج کی بحالی: BMAC مکمل طور پر ختم ہو جانے والی نرم ہڈی (کارٹلیج) کو دوبارہ نیا نہیں بنا سکتا۔
- درد میں کمی کا ذریعہ: یہ جوڑ کے اندر سوزش کو دبا کر درد میں واضح ریلیف فراہم کرتا ہے جو عام طور پر 18 ماہ یا اس سے زیادہ عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔
- آپریشن میں تاخیر: اس کا اصل مقصد گھٹنے کی تبدیلی کے آپریشن کو چند قیمتی اور فعال سالوں کے لیے مؤخر کرنا ہے۔
اگر آپ کے گھٹنے میں جھلی کی چوٹ کا شبہ ہے تو آپ مینسکس کیا ہے پر ہماری تفصیلی رہنمائی بھی پڑھ سکتے ہیں۔
کون سے مریض اس طریقہ علاج کے لیے موزوں ہیں؟
طبی معائنے اور ایکسرے کی بنیاد پر موزوں مریضوں کا انتخاب کیا جاتا ہے:
- موزوں مریض: وہ افراد جن کے گھٹنوں کا گٹھیا درمیانے درجے (گریڈ 2 یا 3) کا ہو، جنہیں ادویات اور فزیوتھراپی سے مکمل آرام نہ مل رہا ہو، اور جو سرجری کو کچھ عرصے کے لیے مؤخر کرنا چاہتے ہوں۔
- غیر موزوں مریض: وہ افراد جن کے جوڑ میں شدید ٹیڑھا پن آ چکا ہو، ہڈی آپس میں رگڑ کھا رہی ہو (گریڈ 4 یعنی آخری درجہ)، یا جوڑ میں انفیکشن ہو۔ ایسے مریضوں کے لیے گھٹنے کی تبدیلی کا آپریشن ہی مناسب حل ہوتا ہے۔
کون سی علامات فوری طبی معائنے کی متقاضی ہیں؟
اگرچہ گٹھیا کا درد آہستہ آہستہ بڑھتا ہے، لیکن کچھ علامات ایسی ہیں جن کے ظاہر ہونے پر فوری طبی معائنہ ضروری سمجھا جاتا ہے:
- ٹانگ پر بالکل وزن ڈالنے کے قابل نہ ہونا۔
- چوٹ لگنے کے فوراً بعد چند گھنٹوں میں شدید اور غیر معمولی سوجن آ جانا۔
- گھٹنے کا ایک جگہ لاک یا پھنس جانا جس سے ٹانگ سیدھی نہ ہو سکے۔
- جوڑ کے درد کے ساتھ تیز بخار، لرزہ، اور جوڑ کے ارد گرد شدید سرخی یا حدت محسوس ہونا۔
ڈاکٹر فاروق اعظم خان سے مشاورت
گھٹنوں کے درد کا درست فیصلہ تفصیلی کلینیکل معائنے اور درست ایکسرے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔
لاہور میں پروفیسر ڈاکٹر فاروق اعظم خان سے وقت لے کر آپ اپنے گھٹنوں کا تفصیلی معائنہ کروا سکتے ہیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ آیا BMAC یا کوئی دوسرا علاج آپ کے جوڑ کے لیے بہترین ہے۔
عام سوالات
- کیا BMAC سے گھٹنے کا گٹھیا مکمل ٹھیک ہو جاتا ہے؟
- نہیں، BMAC ختم شدہ نرم ہڈی کو دوبارہ نہیں اگاتا۔ یہ جوڑ کی سوزش کم کر کے درد میں ریلیف دیتا ہے اور آپریشن میں تاخیر کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
- کیا ہڈی کا گودا نکالنے کا عمل تکلیف دہ ہوتا ہے؟
- کولہے کی ہڈی کے مقام کو لوکل اینستھیزیا کے ذریعے مکمل سن کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے مریض کو صرف ہلکا سا دباؤ محسوس ہوتا ہے اور عمل کے بعد معمولی درد ادویات سے کنٹرول ہو جاتا ہے۔
- BMAC کے اثرات کتنے عرصے تک رہتے ہیں؟
- طبی سائنسی لٹریچر کے مطابق، BMAC کا اثر عام طور پر 18 ماہ یا اس سے زیادہ عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے، تاہم یہ ہر مریض کی کیفیت اور سرگرمی پر منحصر ہوتا ہے۔
- BMAC اور پی آر پی (PRP) میں کیا فرق ہے؟
- پی آر پی خون سے تیار کیا جاتا ہے اور 6 سے 12 ماہ کا وقتی ریلیف دیتا ہے، جبکہ BMAC ہڈی کے گودے سے تیار ہوتا ہے جس میں اسٹیم سیلز اور گہرے شفا بخش مادے شامل ہوتے ہیں۔
حوالہ جات
- Park D, Koh HS, Choi YH, Park I. Bone Marrow Aspirate Concentrate (BMAC) for Knee Osteoarthritis: A Narrative Review of Clinical Efficacy and Future Directions. Medicina (Kaunas), 2025.
- Pabinger C, Lothaller H, Kobinia GS. Intra-articular injection of bone marrow aspirate concentrate in KL grade III and IV knee osteoarthritis: 4 year results of 37 knees. Scientific Reports, 2024.
